کسے فرصت یہاں پر ہے ۔۔۔ !!!
Poet: Ainee Tahir By: Ainee Tahir, Karachiخواب سجائے آنکھوں میں
ہم نے کتنا صبر کیا ہے
نجانے زندگی مجھ کو
کہاں پر لے کے آئی ہے
مری ہر بات کا اب تو
کوئی مطلب نہیں ملتا
سبھی رشتے سبھی ناطے
مجھے اب غیر لگتے ہیں
سبھی قسمیں سبھی وعدے
مٹی کا ڈھیر لگتے ہیں
ویرانی میری آنکھوں کی
غمِ ہجراں سناتی ہے
مجھے اب گردشِ دوراں
یہاں تک لے کے آئی ہے
میں پھولوں کو اگر چھولوں
تو وہ مرجھا سا جاتے ہیں
جو منزل ڈھونڈنا چاہوں
ستارے روٹھ جاتے ہیں
میں اپنے سارے خوابوں کی
جو بیتے ان عذابوں کی
سناؤں داستاں کس کو
کسے فرصت یہاں پر ہے
غمِ ہجراں کے ماروں کی
جو دل سے داستاں سن لے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






