کس طرح یہ دل ہوا تم پر فدا، لکھ جاؤں گا
Poet: ناظم زرسنر By: Nazim ZarSinner, Pakpattansharکس طرح یہ دل ہوا تم پر فدا، لکھ جاؤں گا
اپنی پیشانی پہ اپنی ہر خطا لکھ جاؤں گا
نیک نامی آپ کی قائم رہے گی اِس طرح
آپ کو معصوم، میں خود کو برا لکھ جاؤں گا
لوح پر مجھ سے خدا، لکھوائے گر میری رضا
وہ ہمیشہ خوش رہیں میں یہ دعا لکھ جاؤں گا
تجربہ جس سے مرے دل نے بہت پایا سرور
دیکھنا اُن کی حیا کی انتہا، لکھ جاؤں گا
میں وصیَّت میں لحد اپنی سجانے کے لیے
ہو کفن میرا فقط اُن کی ردا، لکھ جاؤں گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






