کس نے سفارش کی میری باد بہار سے
Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, sangla hillگلشن میں نشہ ہے تیرے نقش و نگار سے
کافر نہیں کہ دور رہوں اس خمار سے
میں پھول بانٹتا رہا لفظوں کے روپ میں
کانٹے سمیٹ کر چلا دشت بہار سے
وہ درد میں شدت ہے کہ جس سمت دیکھئے
پتھر پگلتے جاتے ہیں میری پکار سے
کیا دل میں خواہشات بسا کر تجھے ملا
گر سامنے آئے تو میں پوچھوں بہار سے
آنچل نے کھائی موج ہوا بے نقاب پھول
کس نے سفارش کی میری باد بہار سے
اک جرم انا الحق کی سزا کاٹ رہا ہوں
شکوہ نہیں ہے کوئی مجھے سم یا دار سے
لمحات کی رفتار کو میں کیسے جانتا
چپکی رہی حیات تیری راہگزار سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






