کس نے کہا یہ ہوئی بھلانے کی بات ہے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiکس نے کہا یہ ہوئی بھلانے کی بات ہے
ہوئی تو ناز نخرے اٹھانے کی بات ہے
دریا تو بہہ رہا ہے نہیں ملتا پینے کو
بنجر زمیں کو پانی لگانے کی بات ہے
دشوار راستے ہیں سفر کرنا ہے ابھی
دن رات ہوئی ساتھ نبھانے کی بات ہے
دل توڑ آپ نے دیا میں بے وفا نہیں
جو آپ نے کی دل وہ دکھانے کی بات ہے
وہ لمحے بھولا میں نہیں ہوں یاد آتے ہیں
زلفوں میں پھول ان کے سجانے کی بات ہے
مہنگائی ہے بہت نہیں ہے پاس کچھ ابھی
ہوئی چراغ کی لو بڑھانے کی بات ہے
کیسے رہوں گا یار بنا تیرے میں یہاں
شہزاد اپنی جان بچانے کی بات ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






