کس کو مہندی لگے ہاتھ دکھا کر عیدی لو گی
Poet: Humaira Hammad By: Humaira Hammad, Gujranwalaاس نے پوچھا تھامیں پاس نہ ہوا تو کیسے عید گزرے گی
مرے بن کیسےتری بہکتی زلف سلجھے گی
کس کے لئیے سجنی کاجل لگاؤ گی
کیسے تم عید کےلئےچوڑیاں لینےجاؤگی
کون تری پیشانی پہ زندگی گا نرم سا احساس دلائے گا
کون مری جان کہہ کر تجھ ساتھ لگائے گا
کس کو مہندی لگے ہاتھ دکھا کر عیدی لو گی
رنگ گہرانہ آنے پہ جھگڑا کس سے کرو گی
تب میں بن سوچے سمجے مسکرا دی
مان تھا محبت پہ تری
اب جو سارے خدشے ترے سچ ہوئے
دن عید کا آیا ہے
میں الجھے بال لئے,اپنی سرخ آنکھوں سے
اپنی خالی کلائی تک رہی ہوں
قسمت کا جال بچھ چکا ہے
ہاتھوں پہ رنگ نہیں ٹھنڈی پیشانی زرد ہوتی جارہی ہے
اور مجھے گلے لگانے والا گھر کاراستہ بھول گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






