کل تلک جو سیکھتا تھا خود رموزِ شاعری
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیویارکجس کو اپنا جانتی تھی اس نے تڑپا یا مجھے
ہر کسی نے اپنے اپنے ظرف تک پایا مجھے
اب کسی سے پھر وفاؤں کی امیدیں کیا کرؤں
چھوڑ جاتا ہے مرا جب اپنا ہی سایا مجھے
نفرتوں کی اپنی دنیا سے بغاوت چھوڑ دو
کہہ گیا ہے آج مجھ کو میرا ماں جایا مجھے
کون جانے کب ختم ہوں زندگی کی سازشیں
جس کو اپنا جانتی تھی اس نے تڑپا یا مجھے
کل تلک جو سیکھتا تھا خود رموزِ شاعری
آج میرے در پہ آ کے اس نے سمجھایا مجھے
میرا ہر اک شعر میرے عہد کی آواز ہے
کھو دیا تھا میں نے جس کو اس نے ہے پایا مجھے
رنج و غم کی اس زمیں پر دونوں ہی رسوا ہوئے
را س اب آتا نہیں یہ سحر کا سایا مجھے
سب نے میرے پیار کی تصویر کو گہنا دیا
تیری اس دھرتی پہ مالک کوئی نہ بھایا مجھے
چاہتوں کی وادیوں میں چاہتوں کا زور ہے
چاہتوں کی اس زمیں پہ کون ہے لایا مجھے
چھوڑ آئی منزلوں کو اب میں وشمہ کیا کروں
وہ بھی اب افسردہ ہوگا جس نے ٹھکرایا مجھے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






