کل مجھے تجھ سے پیار ہو کہ نہ ھو
Poet: NADEEM MURAD By: nadeem murad, umtata RSAکل مجھے تجھ سے پیار ہو کہ نہ ہو
دل مرا بیکرار ہو کہ نہ ہو
تتلیاں، پھول، رنگ اور خوشبو
اور باغ و بہار ہو کہ نہ ہو
جس میں سرگوشیاں کریں چھپ کر
موسمِ اعتبار ہو کہ نہ ہو
پیرہن سبز گھانس کا اوڑھے
یہ دلِ کوہسار ہو کہ نہ ہو
تجھ میں اِتنی کشش رہے نہ رہے
حُسن یہ تابدار ہو کہ نہ ہو
یہ جواں حوصلے رہیں نہ رہیں
باورِ کردگار ہو کہ نہ ہو
پیار تیرا مرا زباں زدِ عام
نادرِ روزگار ہو کہ نہ ہو
عشق تو خیر بڑھتا گھٹتا ہے
یہ رقابت ہزار ہو کہ نہ ہو
دل نہ تڑپے ترا بھی میرے لئے
اور مرا انتظار ہو کہ نہ ہو
یا محبت تو ہو بہت لیکن
وصل پر اختیار ہو کہ نہ ہو
آج لے لے جو مجھ سے لینا ہے
کل یہ دل جاں نثار ہو کہ نہ ہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






