کل میں نے محبت میں انتظار دیکھا
Poet: Noor By: Noor, Oman Muscatکل میں نے محبت میں انتظار دیکھا
اپنی آنکھوں میں تیرے لیے پیار دیکھا
کب تک انکار کروں مجھے تم سے پیار نہیں
کل میں نے خود کو تیرے لیے بے قرار دیکھا
ہر روز کا ملنا اور پھر مل کر بچھڑنا
عیاں نہیں تھا مجھ پر تیری محبت کا جلوہ
جو اک دن تو مجھ سے نا ملا او صنم
میں نے خود میں تجھ کو بے شمار دیکھا
تھی نا آشنا جس احساس سے میں
اپنے دل میں بسے تیرے لیے پیار سے میں
تجھ کو میں نے او میرے صنم
دل جگر ڈھرکن کے آر پار دیکھا
دل کو بھی تیرا طلب گار دیکھا
اپنے دکھ درد میں تجھ کو ہمراز دیکھا
تیرے لیے میری محبت کا اقرا ر دیکھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






