کل پہ اٹھا رکھتے ہیں
Poet: Ilyas Kamil By: Ilyas Kamil, NAWAB SHAHگھر تو جانا ہے مگر کل پہ اٹھا رکھتے ہیں
اپنے خوابوں کا سفر کل پہ اٹھا رکھتے ہیں
آج دکھلا دو کہ مرتے ہیں نظر سے کیسے
زندہ کرنے کا ہنر کل پہ اٹھا رکھتے ہیں
سامنے تم ہو میرے آج تمہیں دیکھیں گے
دیکھنا حسن قمر کل پہ اٹھا رکھتے ہیں
آج ہے عید چلو آج گلے ملتے ہیں
قصہء حرف دگر کل پہ اٹھا رکھتے ہیں
تم نے جو زخم دیئے دل کے دکھا دیتا ہوں
پرستش داغ جگر کل پہ اٹھا رکھتے ہیں
آج کی شب تیری خلوت میں بسر کرنے دے
کل کہاں ہوگی بسر کل پہ اٹھا رکھتے ہیں
ہنر مندوں نے میرے لفظ کو شک سے دیکھا
اپنے شعردں کا اثر کل پہ اٹھا رکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







