کل کی بات بھی اب کہہ ڈالیں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillکل کی بات کو کل پر چھوڑو
آتے وقت کو کس نے دیکھا
مستقبل پہ زور ہے کس کا
کل آئے گا کل دیکھیں گے
آج تو جی لیں ان لمحوں کو
جن لمحوں کی خاطر ہم نے
ماضی کو قربان کیا ہے
کیا کرنا اندیشہ ء منزل
فکر فردا کے کیا معنی؟
مستقبل پہ زور ہے کس کا؟
کل آئے گا ،کل دیکھیں گے
چھن چھن جھرنے ،مست ہوائیں
مہکی سی پر سوز فضائیں
اڑتے ،گاتے بے کل پنچھی
گیت خوشی کے میل کر گائیں
بادل ،برکھا،خوشبو،پانی
ان گھڑیوں کو چھونے آئیں
ہم نہ ہوں تو کون سمیٹے؟
ان لمحوں کی شوخ ادائیں
چڑھتا سورج جھومتا آئے
کب ڈوبے گا ہم کیا جانیں؟
شام کی باتیں شام کو ہونگی
سوچ کی چادر ہم کیوں تانیں؟
فکر فردا رہنے بھی دو
شام پڑی ہے،رات پڑی ہے
دل کی اک اک بات پڑی ہے
خواب پرانے سب کہہ ڈالیں
کل کی بات بھی اب کہہ ڈالیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






