کمال لکھتا ہوں
Poet: پارسؔ سہیل By: Paaris Sohail, Faisalabadواقف ہوں یار کی سبھی اداؤں سے
حُسن پڑھتا ہوں، جمال لکھتا ہوں
بیزار ہوں موت و حیات کی رنجشوں سے
امن چاہتا ہوں، قتال لکھتا ہوں
دنیا کی خصلت بھی ہے عیاں مجھ پر
حرام چبھتا ہے، حلال لکھتا ہوں
جواب کی اُمید تو نہیں مگر پھر بھی
سوال کرتا ہوں، سوال لکھتا ہوں
لوگ تو پڑھتے ہیں تحریریں فقط
آنسو پیتا ہوں، خیال لکھتا ہوں
لفظوں کا ذخیرہ چاہے نہیں پاس میرے
پارسؔ جب میں لکھوں، کمال لکھتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






