کم نہیں کرتے
Poet: Gulzaib Anjum By: Gulzaib Anjum, Dubaiآزما دیکھا کہ دکھ بانٹنے سے کم نہیں ہو تے
اس لیے کسی کو ہم شریک غم نہیں کرتے
کئی بیھگ نہ جائیں رنگین سپنے اس لیے
تیری یاد میں آنکھوں کو ہم پُرنم نہیں کرتے
ہجر میں تیرے بوند بوند لہو کی تو ٹپک رہی
مجنوں کی طرح پھر چاک گریباں ہم نہیں کرتے
یہ سچ ہے کہ تجھ سے بچھڑ کر ویسے نہیں رہے
مگر کسی صورت بھی ماتم ہم نہیں کرتے
ہماری وفا پہ یقین نہیں تو پوچھ لو اپنی تصویر سے
پیار تو آج بھی تجھ سے ہم کم نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






