کنجوس کی عیدِ قُرباں
Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachiاِک مردِ کنجوس کی بیگم نے یہ کہا
“قربانی کے کرنے میں کیا امر مُحال ہے؟
وعدہ جو پار سال کیا تھا جناب نے
اُس وعدے کی وفا کو یہی دِن کمال ہے
بکرا ذبحہ کریں گے ہم یا دُنبہ یہ کہو؟
یا چھوٹی موٹی گائے کا دِل میں خیال ہے؟“
بولا وہ اپنی جیب کو ہاتھوں میں تھام کر
“مہنگائی کے ہاتھوں میرا جینا وبال ہے
کھانے کو ہم کو گوشت پڑوسی دے جائیں گے
ہمسائیگی کا کون سا یاں ایسا کال ہے؟“
بیگم یوں بولیں “گوشت ہی مقصد میرا نہیں
حق ہے اس میں غریب کا، حاصل جو مال ہے
اللہ کی رضا ہے کہ دیں ہم غریب کو
وسعت کے باوجود کیوں تم کو ملال ہے؟“
تنگ آ کے اس کنجوس نے بیگم سے یوں کہا
“فرمائیشوں سے بیوی کی بچنا مُحال ہے
ایسا کرو اس عید پر مجھ کو کرو ذبحہ
شوہر کے قتل کے لئے عُمدہ یہ سال ہے“
بیوی نے مُسکُرا کے کہا، “جانِ من سنو!
قُربان کرے تُم کو یہ کس کی مجال ہے؟
اسلام نے یوں شوہر کی قُربانی حرام کی
کہ گدھوں کی تو صرف کمائی حلال ہے“
تمام عالمِ اسلام کو خصوصاً ہماری ویب کے سبھی دوستوں کو عیدِ قُرباں کی دلی مُبارکباد۔
اللہ آپ سب کی قربانی اور ایثار کو شرفِ قبولیت بخشے۔ آمین
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






