کوئی حسین سا چہرہ
Poet: UA By: UA, Lahoreکوئی حسیں سا چہرہ خیالوں میں در آتا ہے
شب ہو کہ سویرا ہو نور ہو کہ اندھیرا ہو
وہ جب آتا ہے دل کا سونا آنگن مہک سا جاتا ہے
میرے بے رنگ چہرے پر سنہرے رنگ بکھراتا ہے
کوئی حسیں سا چہرہ خیالوں میں در آتا ہے
افق کے نیلگوں ہلکے گلابی شوخ رنگوں اور
گلوں کی پرسکوں خوشبو کی میٹھی تازگی لے کر
وہ جب آتا ہے میرے دل کے گلشن کو سجاتا ہے
وہ میری روح مہکاتا، بجھا چہرہ کھلاتا ہے
کوئی حسیں سا چہرہ خیالوں میں در آتا ہے
میرے سکوت کی گہری خاموشی توڑنے والا
میری محروم ہنگامہ سماعت کے لئے کوئی
سکوں پرور دل آفریں سریلا گیت گاتا ہے
کوئی حسیں سا چہرہ خیالوں میں در آتا ہے
میری سوئی ہوئی قسمت کو وہ آکر جگاتا ہے
میرے گمنام جیون کو میری گمنام ہستی کو
نگاہوں میں سما کر کے نئی دنیا دکھاتا ہے
کوئی حسیں سا چہرہ خیالوں میں در آتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







