کوئی سورج مرے اندر تو نہیں ہو سکتا
Poet: نذیر اے قمر By: نذیر اے قمر, madridکوئی سورج مرے اندر تو نہیں ہو سکتا
"دھوپ سے خشک سمندر تو نہیں ہو سکتا"
تو جو بکھرا ہوا پھرتا ہے بیابانوں میں
تری سوچوں میں قلندر تو نہیں ہو سکتا
وہ مری سوچ میں اترے تو مرا ہو جائے
میں وہ قسمت کا سکندر تو نہیں ہو سکتا
راہ میں آج تو مسجد بھی ہے میخانہ بھی
پھر بھی چاہت کا وہ مندر تو نہیں ہو سکتا
ایک ویران جزیرہ سا ہے آنکھوں میں مری
خشک سوتوں میں سمندر تو نہیں ہوسکتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






