کوئی صداء دو.لي بلقلبي أعرف ما في ممكن حيات.بلقلب.
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آبادطلوع ء غم ہے ہونے کو کوئی صداء دو
کوئی امید ہے جانے کو کوئی صداء دو
یہ ویرانی اداسی بے بسی سی کیوں؟
کوئی مسکان لانے کو کوئی صداء دو
ضرورت ہے تمہاری بہت اے میرے ہم دم
میرے پاس آنے کو کوئی صداء دو
محبت ہے جدائیوں پہ پھر اکتفا کیوں ہو
کسی کے لوٹ آنے کو کوئی صداء دو
کوئی تو بنو رھبر مسیحائی کرو کوئی
ظلمت میں شمع جلانے کو کوئی صداء دو
سر ء شام ہے ابھی اندھیرا باقی ہے
ستاروں! چاند نکلنے کو کوئی صداء دو
بہاریں روٹھ رہی ہیں صباء لوٹ جاۓ گی
"گلوں"! خوشبو منانے کو کوئی صداء دو
محبت سے پکارو تجدید ء وفا کرو کوئی
کچھ سانسیں بتانے کو کوئی صداء دو
عذاب ء جان ہے سکوت اتنا بھی جاناں
کوئی عہد نبھانے کو کوئی صداء دو
باد ء سموم ء وقت نے جلا دیا عنبر
اب میرے سنورنے کو کوئی صداء دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






