کوئی مجھ کو بتائے تو ۔۔۔
Poet: Dr. Humera Islam By: Dr. Humera Islam, Karachi.کوئی مجھ کو بتائے تو
کوئی آواز آتی ہے؟
کہ
جب پلکوں سے آنسو ٹوٹ کے دامن پہ گرتے ہیں
شجر سے ٹوٹ کے پتے ۔۔ مٹی پہ بکھرتے ہیں
کہ جب دل شکن لفظوں سے ۔۔ دل ٹوٹ جاتے ہیں
چمکتے جھلملاتے خواب پل میں ٹوٹ جاتے ہیں
کہیں اونچے پہاڑوں پہ روئی سی برف گرتی ہے
یونہی پلکیں جھپکتے میں کسی کی جان نکلتی ہے
کوئی آواز آتی ہے؟
کوئی مجھ کو بتائے تو
میرے کچھ خواب ٹوٹے ہیں
میرے آنسو میرا دامن بھگوتے ہیں
ذرا سے سخت لفظوں سے میرا دل ٹوٹ جاتا ہے
مگر کوئی نہ جانے گا
کہ
سب کے سامنے مسکراتی ہوں
بھلا یوں مسکرانے کی
کوئی آواز آتی ہے؟
کوئی مجھ کو بتائے تو !
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






