کوئی نظم کوئی غزل میرے نام بھی لکھو
Poet: UA By: UA, Lahoreکوئی نظم کوئی غزل میرے نام بھی لکھو
مجھے صبح لکھو تو کبھی شام بھی لکھو
خفیہ لکھو کبھی کبھی سرعام بھی لکھو
تم اپنی ہتھیلی پہ میرا نام بھی لکھو
میں کب سے منتظر ہوں تمہارے پیام کی
سلام لکھو اور کبھی پیغام بھی لکھوں
جو صبح و شام میرے لبوں پر رواں رہے
اس قصہ ناتمام کو تمام بھی لکھو
اس عندلیب نغمہ سرا کو کبھی کبھی
گلشن کے باسیوں کبھی گلفام بھی لکھو
چھوٹی سی آرزو ہے میں ان سے یہ کہوں
تم اپنے ساتھ ساتھ میرا نام بھی لکھو
عظمٰی جو دل کی باتیں دل میں ہی رہ گئی ہیں
وہ باتیں صبح لکھو سر شام بھی لکھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






