کوئی پیام تو دو رمز آشنا مجھ سے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاخموش بیٹھے ہو کیوں ساز بے صدا مجھ سے
کوئی پیام تو دو رمز آشنا مجھ سے
کہیں تمہاری روش خار و گل پہ بار نہ ہو
ریاض دہر سے گزرے چلو صبا مجھ سے
مجھے ہمیشہ رہ زیست کے دوراہوں پر
اک اجنبی ہے جو ملتا ہے آشنا مجھ سے
تمام عمر رہا سابقہ یزیدوں سے
مرے لیے تو یہ دنیا ہے کربلا مجھ سے
امید ان سے وفا کی تو خیر کیا کیجے
جفا بھی کرتے نہیں وہ کبھی جفا مجھ سے
یہ دہر بھی تو ہے مے خانۂ الست نما
رہو یہاں بھی کسی رند پارسا مجھ سے
زباں پہ شکوۂ بے مہریٔ خدا کیوں ہے؟
دعا تو مانگیے جو وشمہ سے بد دعا مجھ سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






