کوئی یاد مجھے آرہا ہے
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, sialkotکوئی یاد مجھے آرہا ہے کئی دن سے
اور دل میرا جلا رہا ہے کئی دن سے
میں عشق کے منجدھار میں دھنسا جا رہا ہوں کئی دن سے
یہ دل مجھے بتا رہا ہے کئی دن سے
میری راتوں میں مچلی ہوئی ہلچل سے لگتا ہے
کوئی نیندیں میری چرا رہا ہے کئی دن سے
میرے کانوں میں گونج رہی ہے کسی کی سریلی آواز
کوئی روح تک اترتا جا رہا ہے کئی دن سے
اب مجھے محسوس ہونے لگی ہے تنہائی کی آہٹ
کوئی خواہش میری جگا رہا ہے کئی دن سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






