کوئ نام نہ لے
Poet: Faiza Umair By: Faiza Umair, فسانہً زیست سے اُلجھنےکے بعد بھی ہم اجنبی ہی رھے
جذبہً سرشار محبت کا تنہائ میں بھی کوئ نام نہ لے
سرپٹ بھاگ رہا ھے ھواکے دوش پہ تخیل ندامت
کیسےہوا منہدم دل کا گھروندا تنہائ میں بھی کوئ نام نہ لے
تشنگی ایسی تھی عشق میں کہ مخبوس ہو گئے
آہ اُس دیوانہً دیدار یار کا تنہائ میں بھی کوئ نام نہ لے
دیار غیر سے لگتے ہیں شناسا سے نقوش بھی
اُس ساحر دیدہ ور کا تنہائ میں بھی کوئ نام نہ لے
“رقت سی طاری تھی جس بہلاوے کے بھنور میں “فائز
اُس لا جواب ہیتً ووجاہت کا تنہائ میں بھی کوئ نام نہ لے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







