کوزہ گر تو نے اگر پیار سے جوڑا ہوتا
Poet: rehan abbas By: rehan , lahoreچاہنے سے ہی کوئی شخص جو اپنا ہوتا
کیسے ممکن تھا مرا خواب پرایا ہوتا
لوگ اپنے ہی مسائل میں مگن بھی گم بھی
تو بھی اس بھیڑ میں ہوتا تو اکیلا ہوتا
مسئلہ جینے کا درپیش کبھی خوفِ اجل
مل بھی جاتا وہ اگر کرب نہ تھوڑا ہوتا
آدمی جذبہِ بےتاب کی مٹی سے بنا
رزقِ ممنوع نہ کھاتا تو بھی ایسا ہوتا
کارواں ساتھ سہی درد ہیں اپنے اپنے
تو زمانے سے نبھاتا بھی تو تنہا ہوتا
میں بگولے کی طرح پھرتا نہ گلیوں گلیوں
کوزہ گر تو نے اگر پیار سے جوڑا ہوتا
خواب بوڑھے بھی تو ہو جاتے ہیں مرتے بھی ہیں
انتظار آپ کا ہوتا بھی تو کتنا ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






