کون جھانکے ہے بھلا اپنے گریبانوں میں
Poet: Sheraz Jafri By: Sheraz Jafri, Rohriکون جھانکے ہے بھلا اپنے گریبانوں میں
وسعتِ قلب ہی باقی نہیں انسانوں میں
اب یہ حالت ہے کہ ڈھونڈے سے نہیں ملتا ہے
نام تیرا تھا کبھی دل کے سبھی خانوں میں
اب ذرا ایک نظر ہم پہ بھی ڈالو جاناں
ہم بھی شامل ہیں ترے در کے نگہبانوں میں
میں بھی ماں جیسی ریاست کے قدم چومونگا
کاش مل جائے کہیں مجھ کو یہ افسانوں میں
علم و تحقیق کے آگے ہی کریں خم سر کو
اک یہی ہم کو بچا سکتا ہے طوفانوں میں
ذہنِ انسان نے حکمت کے دریچے کھولے
فلسفہ سائنس و تحقیق کے میدانوں میں
خوں پسینے کے عوض کم ہی ملی ہے اجرت
ٰزیست مزدور کی گزری ہے پریشانوں میں
دستِ مزدور کے ہاتھوں پہ سجے یہ چھالے
خوف طاری ہے جسے دیکھ کے ایوانوں میں
میں نے مزدور کے گھر میں ہی خدا کو پایا
تم جسے ڈھونڈتے پھرتے رہے ایقانوں میں
دورِ حاضر کے شہنشاہ سے ہم تو شیراز
بر سرِ جنگ ہیں افلاس کے میدانوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






