کون ہے جس سے شکایت کر سکوں اے زندگی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاآسماں کی وادیوں سے اک ستارہ گر گیا
میری نظروں می وہ آکر پھر دوبارہ گر گیا
چلتے چلتے آگیا تھا سوچ کے پندار میں
سوچتی ہوں پھر اچانک کیوں سہارا گر گیا
زندگی جب پیار کی تعمیر میں ہی کٹ گئی
کس قدر خوش ہے عدو جب گھر ہمارا گر گیا
پیار کی ان بارشوں میں سب نہائے تھے مگر
وقت مشکل آ پڑا تو ہر نظارہ گر گیا
کون ہے جس سے شکایت کر سکوں اے زندگی
عکس وشمہ تھی کبھی جب وہ ستارہ گر گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






