کوچہ جاناں سے گھو م کے آئی ہے
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratکوچہ جاناں سے گھو م کے آئی ہے
ان کی خوشبو کو سنگ اپنے لپیٹ لائی ہے
بارش تو ہی بتا وہ کیسے دکھتے ہیں
تو کہ ان کے خدوخال چوم کے آئی ہے
میں کہ سمٹی ہی تھی ان کے لمس میں
ھوا پھر ان کی خوشبو بکھیر آئی ہے
کبھی چہرہ، کبھی گیسو، کبھی شب سیماب سی آنکھیں
واللہ یہ کسیی جلوہ نمائی ہے
خدارا دل کو کس طرح سے سنبھال پاؤں
جس نے ان کی خاطر اٹھائی ہنگامہ آرائی ہے
بارش تیرے تقدس میں خود کو جھکا بھی دوں تو کم ہے
تو کے میرے یار کے آستانے سے ہو کے آئی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






