کُچھ میٹھے، کُچھ کھارے لوگ
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIکُچھ میٹھے، کُچھ کھارے لوگ
ہیں پھر بھی تُمہارے لوگ
آج ملیں کل کھو جائیں گے
وقت کے بہتے دھارے لوگ
کٹھ پُتلی سے زیادہ کُچھ نہ
پم سرکار کے مارے لوگ
دیکھو عید کا چاند ہُوئے اب
میری آنکھ کے تارے لوگ
اپنی سوچ نہیں رکھتے ہیں
زیادہ تر، ہرکارے، لوگ
یہ بھی اللہ کے بندے ہیں
مٹی، کیچڑ، گارے لوگ
اک دن آخر تھک جائیں گے
اپنے آپ سے ہارے لوگ
ان کے تن کو مت دیکھو تُم
مَن کے ہیں اُجیارے لوگ
اور صبا کے بس میں کیا ہو
ہم تو ہیں "سرکارے" لوگ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






