کچّی شرابوں سے
Poet: S.A.Sajjo By: Sajjo, ilford Essexنجات ہی نہیں ملتی تیری حسیں خابوں سے
جلتی ہے جان تیری یادکے تیزابوں سے
نہیں مٹتانقش تیری یادکاہمارے تصور سے
جیسے نہیں جاتی کبھی خوشبوگلابوں سے
آ بھی جاؤ کہ دل بہت اُداس ہے
عمر کاٹے نہیں کٹتی ان سرابوں سے
کروٹیں بدلتا ہوں رات بھراب تو
پل گُذرتا نہیں رات کے نوابوں سے
ہٹاؤ چلمن اُٹھاؤ پردے بہت ہو چُکا
اب ہم تنگ آ چُکے ہیں ان حجابوں سے
چلے بھی آؤ کہ سجوؔ تھک گیا ،ہار گیا
جی بہلتانہیں ان کچّی شرابوں سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






