کچھ ایسے بھی صاحب دیوان ہوتے ہیں
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghahamکچھ ایسے بھی صاحب دیوان ہوتے ہیں
جن کے سخن کے سر پیر نہ کان ہوتے ہیں
جب ان کےسخن کو شہرت نہیں ملتی
پھر دن رات وہ پریشان ہوتے ہیں
خود نمائی کا بھوت ذہن پہ طاری ہوتا ہے
وہ خود ہی اپنے قدر دان ہوتے ہیں
ایسے بھی لوگ ہماری نظر سے گزرے ہیں
جو ظاہر میں پارسا اندر سے شیطان ہوتے ہیں
جو کسی انسان کو خوشی دے نہیں سکتےاصغر
وہی لوگ میرے سخن کا عنوان ہوتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






