کچھ تو شعائر محبت کا احترام کیجئے
Poet: Ahmad Faisal Ayaz By: Ahmad Faisal Ayaz, Hafizabadکچھ تو شعائر محبت کا احترام کیجئے
شکوے محبت کے یوں نہ سر عام کیجئے
بس سنتے ہی رہہے افسانہ ہائے محبت
باقی قصوں کے سب قصے تمام کیجئے
بزم میں جو رہ جاتے ہیں تشنہ لب
نام ان کے اپنے حصے کے جام کیجئے
مرتبہ جو محبت میں قیس کو ملا ہے
دیا ہم کو بھی وہ مقام کیجئے
دامن میں ہوں آپکے خوشیاں ہر دم
غم آئے گر کوئی میرے نام کیجئے
خواہش ہے زندگی کی ہر صبح کی
محبوب کی گلیوں میں شام کیجئے
دیتے ہیں اصلاح یہ یاران عیاز
خوئے سخن چھوڑئے کوئی کام کیجئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






