کچھ تو !
Poet: Syed Fahad Altaf Ahmad By: Syed Fahad Altaf Ahmad, Kahror Pacaa Multanکچھ پل کو تو ہجر بھی ہو
تنہا ئی ہو ، کچھ ابر بھی ہو
ہو یاد کچھ، کچھ زکر بھی ہو
ہو در کوئی ، کوئی دربدر بھی ہو
ہو ابتدا کوئی ، کوئی انتہا بھی ہو
ہو پاس کوئی ، کوئی ذکر بھی ہو
تڑپ ہے ادھر، اثر کچھ ادھر بھی ہو
سزا ہے گر میری جزا کچھ ادھر بھی ہو
ہیں اشک گر ادھر ،کچھ عشق ادھر بھی ہو
مشتاق ہے آحمد،منتظر کئی ئدھر بھی ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






