کچھ تیری طرح چاند بھی کرتا ہے بے قرار
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistanآجا چمن میں جان چمن لے کے نوبہار
تکتے ہیں تیری راہ سبھی پھول بار بار
چھپتا ہے کس ادا سے وہ بادل کی اوٹ سے
کچھ تیری طرح چاند بھی کرتا ہے بےقرار
پائل سی آہٹوں کو لیے ایک بار آ
مجھ کو ہے گھڑی ترے قدموں کا انظار
ہر سمت ڈھونڈتی ہیں ہوائیں تری مہک
تیرے بغیر پھول بھی رہتے ہیں سوگوار
پھرتا ہے بے وجہ ہی وہ سڑکوں پہ رات بھر
زاہد اداس رہتا ہے ہوتا ہے جس کو پیار
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






