کچھ خیال کچھ دھڑکنیں سب کو نذر ہوتا ہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiکچھ خیال کچھ دھڑکنیں سب کو نذر ہوتا ہے
تیرے شہر میں اور کیا کیا حشر ہوتا ہے
میرے قلب سے کئی لمحے چراکر بھی
ہر بے حسی کا میرے راہ سے گذر ہوتا ہے
حُسن راستی کو کہو کبھی اداس نہ رہا کرے
تیری آس پہ کسی کا جیون بسر ہوتا ہے
اُس آئینہ دار کو کیوں کوستے ہو سبھی
جہاں کے ہر شخص کا اپنا مظہر ہوتا ہے
کبھی خود سے اُلجھ کر تو پُوچھ لیتے کہ
اداس لوگوں کا پھر کون سا ڈگر ہوتا ہے
تُو کبھی جو اُس رخ سے بھی نہ گذرا
تجھے کیا پتہ سنتوشؔ کہ کون بدر ہوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






