کچھ رتجگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی
Poet: ارشد ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiان سے پھر اپنی کوئی رفاقت نہیں رہی
شاید اسے ہماری بھی حاجت نہیں رہی
کچھ خواب تھے جو میرے وہ سارے بکھر گئے
کچھ رتجگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی
کہتی تھی تم کو میں نہ کبھی بھول پاؤں گی
باتوں میں اس کے کوئی صداقت نہیں رہی
رسوا کیا تھا جس نے وہی پوچھتے ہیں اب
لہجے میں ارشیؔ تیرے نزاکت نہیں رہی
ممکن نہیں کبھی اسے دل میں بسائیں پھر
دل پر ہمارے اس کی صدارت نہیں رہی
صحرا میں اک شجر مجھے اس وقت ہی ملا
جب دھوپ میں ذرا بھی تمازت نہیں رہی
آئے ہیں پاس اب مرے وہ حال پوچھنے
جب جسم میں ہمارے حرارت نہیں رہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






