کچھ لوگ دل کی آڑ میں روپوش ہو گئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکچھ لوگ دل کی آڑ میں روپوش ہو گئے
بکھرے جو سارے خواب تو خاموش ہو گئے
ساقی نے پھر پلائی ہے کچھ خاص آنکھ سے
اتنا ہوا سرور کہ مد ہوش ہو گئے
وہ کتنے خوش نصیب ہیں جو آپ مل گئے
دیکھا جو جلوہ آپ کا بے ہوش ہو گئے
جتنے کئے تھے پیار میں عہدِ وفا یہاں
سارے ہی عہد ان سے فراموش ہو گئے
اترے ہیں جب بھی آپ کی وشمہؔ زمین پر
بڑھ بڑھ کے درد ہم سے ہم آغوش ہو گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






