کچھ لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: Ayesh khan By: Ayesh Khan, karachiخواہشوں کی زنجیر میں جکڑے ہوئے کچھ لوگ
بے سبب اپنی تقدیر سے روٹھے ہوئے کچھ لوگ
ہنستے ہیں دکھاوے کو وہ جانے کیوں عائش
جو دیکھو اگر اندر سے تو بکھرے ہوئے کچھ لوگ
سہتے ہیں ستم سب کےمگر اف نہیں وہ کرتے
کیوں کرتے ہیں ایسا وفاوں بھرے کچھ لوگ
سن سن کے صدائیں پلٹے نہ جو اب تک
جانے کہاں رہتے ہیں بھٹکے ہوئے کچھ لوگ
مانا ک کچھ ہم بھی تغافل شعار ہیں عائش
پھر کیوں نہیں آ ملتے ہم سے ہنستے ہوئےکچھ لوگ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






