کچھ ماہئے، کچھ ہائکو
Poet: AzharM By: AzharM, Doha
کچھ ماہئے
اک کام مرا کرنا
گھائل ہوں محبت میں
تُم گھاؤ مرے بھرنا
جاناں ہے یہ کیا ان بن
چھوڑو بھی لڑائی تُم
بس ایک ہوں پھر تن من
گُلشن میں بہار آئی
کھلنے کو ہیں اب غنچے
پت جھڑ تھی، گزار آئی
کیا چابی ہواؤں کی
کیوں روک لوں میں خود کو
کثرت ہے اداؤں کی
کچھ ہائکو
اُس کی یادیں ہیں
جاری چشمہ آنکھوں سے
اور فریادیں ہیں
پھولوں کی مالا
اُس کی بانہیں ہیں، میں ہوں
مشکل میں ڈالا
کوئی تو روکو
بہہ جائیں گے ہم دونوں
پکڑو اور ٹوکو
چڑیا اُڑتی ہے
دانہ چن کر راہوں سے
واپس مُڑتی ہے
بہتا پانی ہے
تُم ہو ، میں ہوں دنیا ہے
ایک کہانی ہے
دفتر جانا ہے
بالوں کو بکھرایا کیوں؟
ڈالا دانہ ہے
آنا جانا تھا
ملتے رہتے تھے دونوں
کیا افسانہ تھا؟
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






