کچھ نا سنو بس بولتی رہو
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabiaکچھ نا سنو بس بولتی رہو
میرے لیے چند لفظ ڈھونڈتی رہو
کانٹوں کو ہم پھول کر دیے گئے
اپنی نظر سے صرف مجھے دیکھتی رہو
کہاں کہاں سے ہیں زخمی سینہ
ہاتھ لگا لگا کر صرف پوچھتی رہو
میں نہیں جاؤں گا ساری رات یہاں سے
اپنی کھڑکی کھول کر صرف مجھے ڈانٹی رہو
ہاں میں پاگل ہوں تمہارے لیے جاناں
اپنی نادانی سے میری زندگی میں رنگ گھولتی رہو
یہ دنیا کچھ معانی نہیں رکھتی میرے لیے
اپنی دعاؤں میں صرف مجھے مانگتی رہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






