کچھ نہ کہو بس میری سنو -ٹو
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar KSAبس میری سنو
مجھے کہنے دو
کوئی سنگ تیرے ھمراز نہ ھو
وہ گیت سناتے انداز نہ ھو
میری آنکھوں سے بس تم دیکھو
میرے ھونٹوں سے ہر بات کہو
میری دھڑکن کا احساس کرو
مجھے اپنے دل کے پاس کرو
کچھ نہ کرو
بس اتنا کرو
تم میری سنو
مجھے کہنے دو
تتلی کا کہیں بھی رقص نہ ھو
پتوں پہ گھٹاؤں کا عکس نہ ھو
ندیا چپکے سے بہتی رھے
شبنم بھی ہوا سے کہتی رھے
یہ دو پریمی جو بیٹھے ہیں
اک دوجے سے کچھ کہتے ہیں
آج انہیں سب کہنے دو
تم اپنی جل تھل رہنے دو
پل بر کیلیے خاموش رھو
بس اسکی سنو
اسے کہنے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






