کھلیں گے پھول تیری یاد مجھ کو آئے گی (گیت حصہ اول۔۔ لڑکی)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanکھلیں گے پھول تری یاد مجھ کو آئے گی
بہار آکے مرا دل بہت جلائے گی
اداسیوں کا سماں ہو گا تیرے بعد صنم
بھلا سکوں گی بھلا کیسے تیرے پیار کا غم
یہ زندگی نہ کبھی پھر سے مسکرائے گی
بہار آکے مرا دل بہت جلائے گی
کھلیں گے پھول تری یاد مجھ کو آئے گی
فلک پہ چھائیں گے ٹھنڈی ہوا لیے بادل
مگر میں روؤں گی تیرے لیے یہاں پل پل
گھٹا برس کے مجھے اور بھی رلائے گی
بہار آکے مرا دل بہت جلائے گی
کھلیں گے پھول تری یاد مجھ کو آئے گی
مجھے یوں بانہوں بھر لینا یاد آئے گا
یہ تیرا پیار جتانا نہ بھول پائے گا
ترے بدن کی مہک ہر گھڑی ستائے گی
بہار آ کے مرا دل بہت جلائے گی
کھلیں گے پھول تری یاد مجھ کو آئے گی
بہار آ کے مرا دل بہت جلائے گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







