کھلے ہیں پھول تیری یاد مجھ کو آنے لگی (گیت حصہ دوم۔۔لڑکا)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanکھلے ہیں پھول تری یاد مجھ کو آنے لگی
عجب اداسی مرے دل پہ آج چھانے لگی
یہ دل بہلتا نہیں تیرے بن بہاروں میں
میں ڈھونڈتا ہوں تجھے ان حسیں نظاروں میں
مری نگاہوں سے کیوں خود کو تو چھپانے لگی
عجب اداسی مرے دل پہ آج چھانے لگی
کھلے ہیں پھول تری یاد مجھ کو آنے لگی
حسین پیروں کی خاطر یہ پھول لایا ہوں
نجانے کتنی تمنائیں لے کے آیا ہوں
تری جدائی مرا ضبط آزمانے لگی
عجب اداسی مرے دل پہ آج چھانے لگی
کھلے ہیں پھول تری یاد مجھ کو آنے لگی
ہنسی کو بھول گئے اپنا حسن کھونے لگے
اداس تیرے لیے یہ گلاب ہونے لگے
گھٹا بھی تیرے لیے اشک اب بہانے لگی
عجب اداسی مرے دل پہ آج چھانے لگی
کھلے ہیں پھول تری یاد مجھ کو آنے لگی
عجب اداسی مرے دل پہ آج چھانے لگی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







