کھویا ساتھی
Poet: Naseem Kashmiri By: Naseem Shadaie, Muzaffarabadوہ جائیں جہاں بھی بھلائے نہیں ہیں
چلے گئے جو دل سے پھر آئے نہیں ہیں
کبھی دل لگا کے، کبھی جان لے کے
وہ آیا نہیں ہے مجھے درد دے کے
حالانکہ وہ میں نے ستائے نہیں ہیں
وہ جائیں جہاں بھی بھلائے نہیں ہیں
تمہیں پیار کرتے ہیں تمہی سے ہے کرنا
جام عشق تیری آنکھوںسے بھرنا
میں ڈھونڈوں انہیں وہ جہاں میں کہیں ہیں
وہ جائیں جہاں بھی بھلائے نہیں ہیں
ابھی ہے اجالا غموں کا دکھوں کا
میں ساجن تیرا دل سنبھال کے رکھوں گا
بتا دنیا والے جہاں میں کہیں ہیں
وہ جائیں جہاں بھی بھلائے نہیں ہیں
تیری یاد نے ہم کو لوٹا ہے پیارے
جیتے ہیں تیرے دکھوں کے سہارے
جہاں بھی رہیں وہ ہمارے ہی ہیں
وہ جائیں جہاں بھی بھلائے نہیں ہیں
جبھی دل کو سنبھالا تبھی چوٹ کھائی
تیری یاد نے مجھکو دی رسوائی
ان آنکصوں میں نقشے کسی کے نہیں ہیں
وہ جائیں جہاں بھی بھلائے نہیں ہیں
سنبھال اپنے دل کو نسیم شیدائی
تیرے پیچھے پڑگئی یہ ساری خدائی
اٹھانے پڑیں گے گرائے نہیں ہیں
وہ جائیں جہاں بھی بھلائے نہیں ہیں
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا






