کھڑی کرتا ہے رستے میں دیوار کہیں کہیں
Poet: Sobiya Anmol By: Sobiya Anmol, Lahoreکھڑی کرتا ہے رستے میں دیوار کہیں کہیں
شاید اُس کے دل میں ہے پیار کہیں کہیں
گماں ہوتا ہے اُس کی نادان حرکتوں سے
ملتے ہیں محبت کے آثار کہیں کہیں
چپ کے تالے کھلنے لگے ہیں دھیرے دھیرے
چھیڑتا ہے باتوں باتوں میں ذکرِ یار کہیں کہیں
رُلا دیتا ہے مجھے ٗ رو پڑتا ہے خود بھی
بننا چاہتا ہے وہ میرا غم خوار کہیں کہیں
نگاہیں جھکا لیتا ہے محفل میں بیٹھے ہوئے
سجے ہیں اُس دل کے کوچہ و بازار کہیں کہیں
دل میں کیا ہے مگر صاف صاف نہیں کہتا
شاید وہ بھی ہے محبت کا گنہگار کہیں کہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






