کہانی محبت کی کچھ ایسے موڑ آیا ہوں
Poet: Tanzila Yousaf By: Tanzila Yousaf, Lahoreکہانی محبت کی کچھ ایسے موڑ آیا ہوں
میں اپنے ہاتھ سے ہی اپنا گھر جلاآیا ہوں
زندگی ہم سے نہ مانگ قربانی
میں ترے ہاتھ میں تاوان تھماآیاہوں
رنج راحت کدہ کیوں کر ہوتا ہے
میں اپنی روح کو تجربہ گاہ بناآیا ہوں
موت بھی ہم ایسوں سے دور بھاگتی ہوگی
میں اس کی آنکھوں میں آج آنکھیں ڈال آیا ہوں
حصار تخیل کا تیرے ٹوٹ گیا
میں تیرے ہاتھ میں پروانہء ہجر تھماآیاہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






