کہاں آ کے رکے تھے راستے, کہاں*موڑ تھا, اسے بھول جا
Poet: Amjad Islam Amjad By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIکہاں آ کے رکے تھے راستے، کہاں*موڑ تھا، اسے بھول جا
جو مل گیا اسے یاد رکھ، جو نہیں ملا اسے بھول جا
وہ تیرے نصیب کی بارشیں* کسی اور چھت پہ برس گیںٔ
دلِ بے خبر میری بات سن، اسے بھول جا، اسے بھول جا
میں*تو گم تھا تیرے دھیان میں، تری آس میں* تیرے گمان میں
صبا کہ گئی میرے کان میں، میرے ساتھ آ اسے بھول جا
کسی آنکھ میں نہیں اشکِ غم، تیرے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم
تجھے زندگی نے بھلا دیا، تو بھی مسکرا اسے بھول جا
کیوں اٹا ہوا ہے غبار میں، غمِ زندگی کے فشار میں
وہ جو درج تھا ترے بخت میں، سو وہ ہو گیا، اسے بھول جا
نہ وہ آنکھ ہی تری آنکھ تھی، نہ وہ خواب ہی ترا خواب تھا
دلِ منتظر تو یہ کِس لئے، ترا جاگنا اسے بھول جا
یہ جو رات دن کا ہے کھیل سا، اسے دیکھ اس پہ یقیں نہ کر
نہیں عکس کوئی بھی مستقل، سرِ آئینہ اسے بھول جا
جو بِساط جاں ہی الٹ گیا، وہ جو راستے میں پلٹ گیا
اسے روکنے سے حصول کیا، اسے مت بلا اسے بھول جا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






