کہاں تلاش کروں اس کو آج میں وشم
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاکتاب دل میں جو نفرت کا باب رکھتا تھا
وہ چاہتوں کا مکمل حساب رکھتا تھا
فریب ریتا رہا دوستی کے پردوں میں
وہ شخص چہرے پہ کتنے نقاب رکھتا تھا
اس کے ہاتھوں میں پتھر دکھائی دیتا ہے
جو اپنے ہاتھ میں ہر دم گلاب ر کھتا تھا
وہ شخص جو کہ بھٹکتا دکھائی دیتا ہے
راہِ وفا میں قدم کامیاب رکھتا تھا
کہاں تلاش کروں اس کو آج میں وشمہ
جو اپنی بات میں اپنا جواب رکھتا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






