کہاں تک گئے ہم وفا کرتے کرتے
Poet: Khalid Mahmood By: Khalid Mahmood, Abhaکہاں تک گئے ہم وفا کرتے کرتے
بتا دی عمر یہ خطا کرتے کرتے
وفاؤں کے بدلے جفاؤں کو پایا
محبت کی رسمیں ادا کرتے کرتے
تیرے عشق کی جستجو دل میں لے کر
چلے آئے در پہ دعا کرتے کرتے
برسوں کے بعد گر وہ ملا بھی
گزارا وقت پھر گل وہ کرتے کرتے
سکھائے رموز محبت کسی نے
کبوتر فضا میں رہا کرتے کرتے
رخت سفر باندھ کر چل پڑا وہ
مریض محبت دوا کرتے کرتے
بھلانے کی کوشش میں ہاد آ گئے وہ
یہ کیا ہو گیا ہم سے کیا کرتے کرتے
کہیں ٹوٹنے پائیں نہ دل کے رشتے
رہے ہم کسی سے نبھاہ کرتے کرتے
میرے روز و شب کا ہو آغاز یوں ہی
تیرے نام سے ابتدا کرتے کرتے
سفر زندگی کا کٹے کیسے خالد
پھولوں سے خوشبو جدا کرتے کرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






