کہاں سے ابتدا ہوئی

Poet: UA By: UA, Lahore

خبر ملی تو ہوگی تجھ کو میرے آنے کی
میں ہوئی مرکز نگاہ بھرے زمانے کی

گھڑی گھڑی کا آنا جان کر گیا رسواء
میری پہچان ہوئی ریت آنے جانے کی

میں بے نقاب تیرے شہر سے گزرتی رہی
طلب تھی مجھ کو ہی شاید کسی کے طعنے کی

کوئی وجہ کوئی عذر تو بتایا ہوتا
میں رہی منتظر تیرے کسی بہانے کی

کہاں سے ابتدا ہوئی کہاں پر انتہا عظمٰی
بنا کوئی تو ہوگی تیرے اس فسانے کی

Rate it:
Views: 1099
28 Nov, 2008
More Sad Poetry