کہاں ہیں وعدے ،کہاں اب وفا تمھاری ہے (دو گانا)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanلڑکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں ہیں وعدے ، کہاں اب وفا تمھاری ہے
بجھا بجھا سا ہے دل اور بے قراری ہے
ملی ہے پیار کے بدلے میں مجھ کو رسوائی
ہے زندگی میں مری آج کتنی تنہائی
ہر ایک لمحہ سسکتا ہوں ، آہیں بھرتا ہوں
تمھارے پیار کی کتنی کڑی سزا پائی
مگر ابھی بھی وفاؤں کی پاس داری ہے
بجھا بجھا سا ہے دل اور بے قراری ہے
لڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دل تمھارا ہے یہ جان بھی تمھاری ہے
مگر ہیں پہرے کڑے خوف مجھ پہ طاری ہے
میں چاہ کر بھی تمھیں ملنے آ نہیں سکتی
تمھیں وفاؤں کا نغمہ سنا نہیں سکتی
یقین کیسے دلاؤں میں اپنی چاہت کا
کہ دل بھی چیر کے اپنا دکھا نہیں سکتی
ستم زمانے کا ہر آن مجھ پہ جاری ہے
یہ دل تمھارا ہے اور جان بھی تمھاری ہے
لڑکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں ہیں وعدے ، کہاں اب وفا تمھاری ہے
بجھا بجھا سا ہے دل اور بے قراری ہے
لڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دل تمھارا ہے یہ جان بھی تمھاری ہے
مگر ہیں پہرے کڑے خوف مجھ پہ طاری ہے
کہ
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






