کہا تھا اک دن چھوڑ جاؤ گے
Poet: Imran khan By: Imran khan, D.G Khanکہا تھا اک دن چھوڑ جاؤ گے
یہ وعدے یہ قسمیں ان سب کو توڑ جاؤ گے
پہلے بتاتے نہ ہم دل لگاتے نا سپنے سجاتے
نا ہی پیار بڑھاتے
بس چپ چاپ تمہاری دنیا سے چلے جاتے
نا جانے تم کہاں میں کہاں
بس چاروں طرف ہیں تنہایاں
تمہارے بنا مشکل ہے جینا یہاں
تمہارے بنا سونا ہے یہ جہاں
مدت ہوئی اب تو لوٹ آؤ نا
تلخیاں شوخیاں سب کو بھول جاؤ نا
اس ٹوٹے ہوئے دل کو اور مت ستاؤ نا
اب تو لوٹ آؤ نا اب لوٹ آؤ نا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






