کہتی ہے عاشقی نہیں ہوتی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاآنکھوں میں بے رخی نہیں ہوتی
ہونٹوں پر جو ہنسی نہیں ہوتی
چاند جانے کی بات رہنے دو
شب میں یہ دلکشی نہیں ہوتی
اتنے بخشے تھے تم نے غم ہم کو
آہوں سے دل لگی نہیں ہوتی
دل کو تھاما ہوا ہے برسوں سے
جانے کب زندگی نہیں ہوتی
لڑ رہے ہیں سبھی ہواؤں سے
آندھیوں میں کمی نہیں ہوتی
بات پہنچی نہیں رقیبوں تک
اپنی اب دوستی نہیں ہوتی
کیسے روشن ہو بزم جاں جاناں
کہتی ہے عاشقی نہیں ہوتی
پھر وہ اترے گا دل کے آنگن میں
آنکھوں میں روشنی نہیں ہوتی
میری سنگت ہیں یاد کے لشکر
جاناں سے دل لگی نہیں ہوتی
مل کے لگتا ہے تم سے اے وشمہ
زندہ سی زندگی نہیں ہوتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






